حد سے بپھری ہوئی عدالت دیکھ
انتقام، آگ، زہر، نفرت، دیکھ
دیکھ لی، فوج کی ، سیاست کی
اب ججوں کی بھی آمریت دیکھ
حرفِ آخر ہے چیف جو کہہ دے
عدل کے نام پر شقاوت دیکھ
ہے توازن کہاں اداروں مےں
جس کی لاٹھی ہے اس کی طاقت دیکھ
یوں تو لاکھوں مقدمے ہیں پڑے
صرف اک کی سدا سماعت دیکھ
ایک ملزم ہے بس نشانے پر
میڈیا میں لگی عدالت دیکھ