پروگرام کی میزبان ثناء بچہ کے سوال کے جواب میں حسین حقانی کا کہنا تھا کہ
میںیہ نہیں آؤں گا میں نے یہ کہا ہے کہ میں اس وقت نہیں آسکتااورا س میں
دو باتیں ہیں ایک تو صحت کے معاملات ہیں جس کے بارے میںیہ بات واضح طور پر
کہنا چاہوں گا کہ بہت سے لوگ جو آپ کا ٹی وی شو دیکھ رہے ہوں گے وہ بھی
کہیں گے کہ آپ ٹی وی پر آسکتے ہیں تو آکیوں نہیں سکتے میرا یہ خیال ہے کہ
صحت کے معاملات میں فیصلہ کرنا ڈاکٹرز کا حق ہے یہ کسی عدالت کو حق نہیں ہے
کہ وہ کسی کی صحت کے بارے میںیکطرفہ طور پر طے کرے کے وہ آدمی سفر کرسکتا
ہے کہ نہیں اس میں ڈاکٹروں کی رائے مانی جانی چاہیے کیونکہ یہ نہیں ہو سکتا
کہ عدلیہ وزیر اعظم کا اختیار بھی استعمال کرنا چاہے اور اسکے بعد ڈاکٹرز
کا اختیار بھی استعمال کرنا چاہے دوسری بات میری یہ ہے کہ جہاں تک خطرات کا
تعلق ہے پاکستان میں جو خطرات مجھے لاحق ہیں وہ ایک حقیقت ہیں وہ میمو سے
زیادہ بڑی حقیقت ہیں ، میں ان لوگوں کی یقین دھانی پر پاکستان آنے کو تیار
نہیں ہو ں جنہوں نے کسی ایسے وکیل کو سزا نہیں دی جس نے سلمان تاثیر کے
قاتل پر پھول برسائے کسی کا لائسنس معطل نہیں کیا اور پھر انہیں کی صفوں
میں سے ایک صاحب جسٹس (ر)خواجہ شریف اس قاتل کے وکیل بھی بن گئے تو میں
کیوںیہ خطرہ مول لوں کہ میں پاکستان آؤں اورکوئی آدمی مجھے غدار یا قاتل
قرار دے کر گولی مار دے اوراس کے بعد بہت سارے لوگ جو نعرے لگارہے ہوتے ہیں
سپریم کورٹ کے باہر وہ اس پر پھول برسائیں کوئی سزا نہ ملے اورکوئی
ریٹائرڈ جج ان کا وکیل بن جائے میں یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہو ں اور
دنیا میں کوئی طاقت ایسی نہیں ہے جو مجھے اس خطرے کو مول لینے پر مجبور کر
سکے اور